حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ، سابق وزیر قانون اور کانگریس پارٹی کے شعبۂ امور خارجہ کے سربراہ سلمان خورشید نے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای صرف ایران کے سیاسی رہنما نہیں تھے بلکہ پوری انسانیت کی مشترکہ میراث تھے، اسی لیے دنیا کی بہت سی قومیں انہیں اپنا رہنما تصور کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دنیا بھر کا بحران اس بات کا متقاضی ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای جیسی شخصیات کے عالمی پیغام کو فروغ دیا جائے۔
رہبر شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامن ای کی تاریخی تشییع جنازہ میں شرکت کے لیے ایران آنے والے سلمان خورشید نے حوزہ نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو ایران کا دوست سمجھتے ہیں اور شہید رہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایرانی عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای ایک ایسی نادر شخصیت تھے جنہوں نے روحانیت اور عملی سیاست کو اس انداز میں یکجا کیا کہ سیاست کو محض اقتدار کی کشمکش کے بجائے اخلاق، انسانیت اور خدمت کا ذریعہ بنا دیا۔ ان کے بقول، ایسے رہنما صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں جو اپنی قوم، اپنے نظریات اور پوری انسانیت کے لیے آخری سانس تک ثابت قدم رہتے ہیں۔
سلمان خورشید نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اپنی پوری زندگی اپنے اصولوں پر استقامت کے ساتھ گزاری اور کبھی اپنے عقائد سے پیچھے نہیں ہٹے۔ وہ اپنے نظریات کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہے، اسی لیے ان جیسی شخصیت کا متبادل تلاش کرنا انتہائی مشکل ہے۔
انہوں نے مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی مقبولیت کے بارے میں کہا کہ تمام آسمانی مذاہب کا بنیادی مقصد انسان کو خدا سے قریب کرنا ہے۔ اگرچہ مختلف مذاہب میں خدا کے نام مختلف ہیں، لیکن سب کا راستہ ایک ہی حقیقت کی طرف جاتا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے ادیان کے درمیان موجود اس مشترکہ روح کو سمجھا اور انسانوں کو باہمی احترام، امن اور اخوت کا درس دیا، جو ان کی عظمت کی نمایاں وجہ ہے۔
کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کسی ایک ملک یا ایک مذہب تک محدود نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگی پوری انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے عوام ان کے لیے غیر معمولی احترام اور عقیدت رکھتے ہیں اور وہ اسی جذبے کے تحت ایران آئے ہیں تاکہ ہندوستانی عوام اور دنیا کے آزاد انسانوں کی جانب سے ایرانی قوم کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر سکیں۔
سلمان خورشید نے حکومتوں اور عوام کے مؤقف میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ حکومتیں سفارتی تعلقات، بین الاقوامی معاہدوں اور سیاسی مصلحتوں کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرتی ہیں، لیکن عوام کے جذبات ان پابندیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپوزیشن جماعت کے رہنما کی حیثیت سے عوامی احساسات کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان کا مشاہدہ ہے کہ ہندوستان کے عوام آیت اللہ خامنہ ای کے لیے غیر مشروط احترام اور تحسین رکھتے ہیں۔
انہوں نے ایران کی حمایت میں عوامی عطیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئی دوست مصیبت میں ہوتا ہے تو انسان اس کے لیے دعا کرتا ہے، اس سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور اپنی استطاعت کے مطابق اس کی مدد بھی کرتا ہے۔ محدود مالی وسائل رکھنے کے باوجود ایران کی مدد کرنے والوں نے بلند انسانی اقدار، اخوت اور گہری یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔
سابق ہندوستانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جس طرح خاندان کا بزرگ تمام افراد کو اختلافات بھلا کر ایک جگہ جمع کرتا ہے، اسی طرح آیت اللہ خامنہ ای ہمیشہ انسانوں کو اتحاد، پرامن بقائے باہمی اور اجتماعی طور پر مسائل حل کرنے کی دعوت دیتے رہے۔ ان کے مطابق یہی وہ پیغام ہے جسے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں عام کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کا پیغام صرف ایران یا عالم اسلام کے لیے نہیں تھا بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھا۔ آج دنیا جنگوں، تنازعات، ظلم، ناانصافی اور انسانی بحرانوں سے دوچار ہے، اس لیے پہلے سے کہیں زیادہ ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہے جو پوری انسانیت کو اتحاد، انصاف، امن اور معنویت کی راہ دکھا سکیں۔









آپ کا تبصرہ